ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اسپتالوں میں 100-100کے نوٹ جمع نہ کرنے پرفیروزآباد اوربنگلور میں ایک ایک مریض کی موت

اسپتالوں میں 100-100کے نوٹ جمع نہ کرنے پرفیروزآباد اوربنگلور میں ایک ایک مریض کی موت

Sat, 12 Nov 2016 04:18:09    S.O. News Service

نئی دہلی/بنگلور11/نومبر (ایس او نیوز) 1000اور 500 کے نوٹ بند کر دئیے جانے اور خاندان والوں کی طرف سے چھوٹی رقم کے نوٹوں کا انتظام نہ کر پانے کی وجہ سے اترپردیش کے فیروز آباد کے ایک اسپتا ل میں مبینہ طور پر مریض کا علاج بند کر دیا گیا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ اسی طرح کا ایک واقعہ بنگلور میں بھی پیش آیا جہاں سو کا نوٹ پیش نہ کرنے پر بلڈ بینک سے خون دینے سے انکار کیا گیا ، جس کی وجہ سے مریض نے اسپتال میں ہی دم توڑ دیا۔

اُدھر فیروز آباد سے ملی اطلاع کے مطابق مریض کی موت پر اہل خانہ کی طرف سے ہنگامہ کئے جانے کی اطلاع موصول ہویی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اہل خانہ نے میڈیکل کالج کے اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی  بھی کی۔ مقامی صحافی جتیندر کے مطابق، بدھ کی رات کو آگرہ ہائی وے پر واقع ایف ایچ میڈیکل کالج میں بھوت نگریا گاؤں کے رہائشی رام ویر کو داخل کروایا گیا تھا، اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا، اسپتا ل کے عملے نے رام ویر کے اہل خانہ سے 10000روپے جمع کروانے کے لیے کہا تھا، اہل خانہ نے اسپتال کو بتایا کہ اے ٹی ایم بند ہونے کی وجہ سے ان کے پاس کل 4000 روپے ہے اور یہ بھی کہا کہ باقی رقم اگلے دن جمع کروا دیں گے۔ رام ویر کے اہل خانہ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس 500اور 1000کے نوٹ تھے، جنہیں لینے سے اسپتا ل نے انکار کر دیا تھا۔ رام ویر کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ان کے بار بار درخواست کرنے پر بھی اسپتا ل والوں نے ان کی نہیں سنی، اور وینٹی لیٹر ہٹا لیا گیا، جس سے رام ویر کی موت ہو گئی۔اس پر جب رام ویر کے اہل خانہ نے ہنگامہ کیا، تو اسپتا ل کے عملے سے ان کا تنازعہ ہوگیا، ویسے، متاثرہ فریق کی طرف سے تھانے میں شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے، جبکہ پولیس چوکی اسپتا ل کے احاطے میں ہی موجود ہے۔ادھر، ٹنڈلا ایف ایچ میڈیکل کالج کے چیئرمین ڈاکٹر ریحان فاروق کا دعوی ہے کہ گاؤں والوں کا الزام بے بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ مریض کو لے کر کچھ لوگ اسپتا ل آئے تھے جو نشے میں تھے، اور مریض کی موت علاج کے دوران ہوئی ہے۔اس کے بعد مریض کے ساتھ آئے لوگوں نے ڈاکٹروں سے مار پیٹ کی، جس کی وجہ سے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔اسپتا ل کے اہلکاروں کا بھی دعوی ہے کہ روپے یا ادائیگی کی وجہ سے وینٹی لیٹر نہیں ہٹایا گیا تھا، بلکہ مریض کی موت کی بعد اسے ہٹایا گیا۔اسپتا ل کے اہلکاروں کے مطابق، مریض کے لواحقین اس کی لاش کو بغیر پوسٹ مارٹم کرائے ہی لے گئے تھے، اور اس کی آخری رسومات بھی اداکر دی گئی ہیں۔

اُدھر بنگلور سے ملی اطلاع کے مطابق 8/ نومبر نیلمنگلا کے رہنے والے راجو کو سڑک حادثہ میں شدید زخمی ہونے کی وجہ سے بنگلور کے وکٹوریہ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، خون کی اشد ضرورت پیش آنے پر ایم ایس رامیا اسپتال کے بلڈ بینک سے خون حاصل کرنے کی کوشش کی گیی تو اسپتال کے عملہ نے ایک یونٹ کے لیے تین ہزار کا مطالبہ کیا۔ راجو کے دوست لکشمی نرسہمیا کے مطابق ان کے پاس صرف پانچ سو اور ہزار کے نوٹ تھے، جسے اسپتال کے عملے نے لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ سو سو کے نوٹس لاو۔ جب وہ سو سو کے نوٹس دینے سے معذوری ظاہر کی تو خون دینے سے انکار کردیا، اور خون نہ ملنے کی وجہ سے راجو اسپتال میں ہی تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ واقعے کے بعد ایم ایس رامیا اسپتال کے عملے نے بھی اپنے اوپر لگایے گیے الزامات کی تردید کی ہے اور لاپراہی سے انکار کیاہے۔


Share: